اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق جنرل محمد حسین باقری نے بدھ کی شب انقرہ میں ترکی کے اعلی دفاعی اور فوجی حکام کے ساتھ ملاقات کے بعد انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک تمام میدانوں خاص طور سے فوجی اور دفاعی شعبوں میں تعاون کوفروغ دینے کا پختہ ارادہ رکھتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ترکی کے فوجی اور سیکورٹی حکام کے ساتھ مذاکرات میں باہمی سیکورٹی اور فوجی تعاون کے فروغ اور مشترکہ سرحدی معاملات پر ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگی پر اتفاق کیا گیا۔ایران کی مسلح افواج کے سربراہ نے بتایا کہ تہران اور انقرہ نے فوجی تربیت اور ریسرچ کے شعبوں میں بھی ایک دوسرے کے ساتھ تعاون پر اتفاق کیا ہے جس کے تحت دونوں ملکوں کے درمیان فوجی وفود کا تبادلہ عمل میں آئےگا اور بحری بیڑے ایک دوسرے کی بندرگاہوں کا دورہ اور مشترکہ فوجی مشقیں انجام دیں گے۔جنرل محمد حسین باقری نے ترک صدر رجب طیب اردوغان کے ساتھ اپنی ملاقات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ صدر ارودغان بہت جلد ایران کا دورہ کریں گے اور دونوں ملکوں کے درمیان سیاسی، اقتصادی، ثقافتی اور فوجی تعلقات کے فروغ کی غرض سے مشترکہ اسٹریٹیجی کمیشن کا اجلاس بھی منعقد کیا جائے گا۔ایران کی مسلح افواج کے چیف آف اسٹاف نے عراقی کردستان ریجن میں ریفرنڈم کے انعقاد کے منفی نتائج کی بابت بھی خبردار کیا اور یہ بات زور دے کر کہی کہ ریفرنڈم کے نتیجے میں عراق کے اندر نئی کشیدگی اور لڑائیوں کا آغاز ہوسکتا ہے۔جنرل محمد حسین باقری نے مزید کہا کہ، عراقی کردستان ریجن میں ریفرنڈم کے انعقاد کے بارے میں تہران اور انقرہ کے نظریات میں ہم آہنگی پائی جاتی ہے کیونکہ اس کے اثرات عراق کے ہمسایہ ملکوں ایران اور ترکی پر بھی مرتب ہوں گے۔ایران کی مسلح افواج کے سربراہ بدھ کے روز اعلی سطحی فوجی اور دفاعی وفد کے ہمراہ انقرہ پہنچے تھے جہاں انہوں نے صدر رجب طیب اردوغان، وزیردفاع نورالدین جانی کلی، اور اپنے ترک ہم منصب جنرل خلوصی آکار سے الگ الگ ملاقات اور باہمی دلچسپی کے معاملات پر تبادلہ کیا۔
.......
/169